اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تکفیری وہابیوں نے سرکاری افواج کا سامنے کرنے سے بے بس ہوکر عدرا العمالیہ نامی شہر کے نواح میں خونریز حملے کرکے درجنوں شامی باشندوں کے سر قلم کئے اور ان کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے سڑکوں پر پھینک دیا اور شہداء کے خاندانوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا۔ اس علاقے سے دہشت گردوں کو نکالے جانے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ 100 شہری وہابی درندگی کے بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ الحقیقہ نامی نیوز ویب سائٹ نے شہر کی صورت حال شہر سے فرار ہونے والے افراد کے زبانی، بیان کی ہے: انسانیت کے خلاف یہ جرائم سعودی کارندے زہران علوش کی جیش الاسلام، الجبہۃالاسلامیہ، جبہۃالنصرہ اور داعش نے انجام دیئے ہیں حن یے 1000 سے 1500 تک دہشت گرد شہر میں داخل ہوئے اور بےگھر افراد کے بھیس میں سینکڑوں مسلح افراد، جو پہلے سے اس شہر میں آبسے تھے، بھی ان سے جا ملے۔ تکفیری دہشت گردوں نے 11 دسمبر بروز بدھ، صبح کے وقت عدرا اور اس کے اطراف میں خودکار نانبائی، ڈسپنسری اور پولیس تھانے پر حملے کئے اور شہربوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا یا پھر خنجروں اور چھریوں سے ان پر حملہ آور ہوئے۔ ان حملوں میں خاص طور پر سرکاری ملازمین کو نشانہ بنایا گیا اور مقتولین کے سر تن سے جدا کرکے شہر کے مرکزی چوک کے ستونوں پر لٹکا دیئے۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ یہ ایک حقیقی درندگی اور انسانیت کے خلاف حقیقی جرم تھا جو انہیں کہیں بھی نظر نہیں آیا تھا۔ ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ صبح کے وقت فائرنگ کی آواز سے جاگ اٹھے۔ ہم نے کالے جھنڈوں والے افراد کو دیکھا جو جیش الاسلام اور جبہۃالنصرہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان میں سے بعض کہہ رہے تھے: اے علویو اور اے نصیریو ہم تمہارے سر جدا کرنے اور تمہیں ذبح کرنے کے لئے آئے ہیں۔ اور اس نعرے کو شعر کی صورت میں دہرا رہے تھے۔ اور یہی وہی اشعار تھے جو تکفیریوں کی جنگ کے آغاز پر صوبہ ادلب میں پڑھے گئے۔ ہم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو گھر کے تہہ خانے میں چھپ گئے۔ اور اس کے بعد شہر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور ہمارے پڑوسیوں کی ایک تعداد بھی ہمارے ساتھ شہر سے نکلنے میں کامیاب ہوئی۔ اس شخص نے کہا: درجنوں دہشت گردوں نے ڈسپنسری پر حملہ کیا اور وہاں موجود ایک سرکاری ملازم کو شہید کیا اور اس کا سر تن سے جدا کرکے شہر کی دیوار پر لٹکا دیا۔ ایک عینی شاہد نے کہا کہ درجنوں دہشت گردوں نے کئی گھروں کے مکینوں کو گھروں سے نکال کر گولیوں کا نشانہ بنایا اور دستی بموں سے ان پر حملہ کیا اور ان سب کو قتل کردیا۔ وہابی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل عام کے اس افسوسناک واقعے کے وقت موجود ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ 11 افراد ـ جن میں مرد اور بچے بھی تھے اور عورتیں بھی، اور وہ سب قطار بنا کر روٹی لینے نانبائی کے سامنے کھڑے تھے لیکن دہشت گردوں نے ان سب کو قتل کیا اور سات افراد کو یرغمال بنانے کے بعد قتل کیا اور ان کے سر چھریوں سے الگ کرکے لٹکا دیئے۔ پولیس چوکی میں موجودہ تمام افراد کو دہشت گردوں نے قتل کرکے ان کی لاشیں شہر میں پھرا دیں۔ ایک اور شاہد نے کہا: چونکہ اس شہرے کے مکین سرکاری ملازمین تھے اور دہشت گردوں کے بزعم حکومت کے حامی پیرا ملٹری فورسز سے وابستہ تھے اسی لئے ان کے قتل کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا اور ساتھ ہی ان کا ارادہ پورے شہر کو جلانے کا تھا۔ الحقیقہ نے مقامی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ شہر کا دفاع کرنے کے لئے صرف سو افراد دو مورچوں میں موجود تھے اور پولیس چوکی میں بھی صرف 20 افراد تھے چنانچہ دہشت گردوں نے ایک گھنٹے کے اندر اندر اس علاقے کو لوٹ لیا اور اس کے باشندوں کو قتل کیا۔ 11 دسمبر کو شہر سے آنے والی ایک خبر کے مطابق دہشت گردوں نے گردن زنی اور قتل و غارت کا یہ سلسلہ اس روز شام تک جاری رکھا اور 47 افراد کے سر مذہبی اور فرقہ وارانہ رجحانات کی بنا پر جدا کئے گئے اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے اور یہ سارے مقتولین اور زخمی عام شہری یا عام سے سرکاری ملازمین تھے۔ علاوہ ازیں اس درندگی اور انسانیت دشمنی کے دوران 200 افراد کو یرغمال کرکے لے جایا گیا اور ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہيں ہوسکی ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان افراد کو بھی مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کرکے ذبح کیا گیا ہے جن میں علوی، عیسائی، دروزی اور دوسرے مذاہب کے پیروکار شامل تھے۔ ایک شامی باشندے کا کہنا تھا کہ اصل حقائق ابھی منظر عام پر نہیں آسکے ہیں اور عنقریب واضح ہوجائے گا کہ 2011 سے شروع ہونے والی دہشت گردی کے دوران پیش آمدہ اطلاعات میں یہ واقعہ بدترین اور وحشیانہ ترین واقعہ اور سب سے بڑا قتل عام تھا۔ عدرا سے بھاگ کر دمشق پہنچنے والے ایک شامی باشندے کا کہنا تھا کہ دوما اور حرستا سے بھاگ کر عدرا میں سکونت پذیر ہونے والے افراد دہشت گردوں سے جا ملے تھے اور وہ وہابیوں کو دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے گھروں کو پتہ دیتے تھے جو ان کے بزعم سرکار کے ایجنٹ اور حامی تھے۔ اور دہشت گرد انہيں بستروں سے اٹھا کر اور گھروں سے نکال کر گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کردیتے تھے۔ اس دوران شہر کے سنی باشندوں نے زیادہ سے زیادہ علوی باشندوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی تاکہ وہ وہابی دہشت گردوں کے شر سے محفوظ رہیں۔ ادھر وہابی دہشت گرد مساجد سے اعلان کررہے تھے کہ علوی باشندے اپنے آپ کو ان کے حوالے کردیں جبکہ سنی باشندوں نے ان کی بڑی تعداد کو اپنے گھروں میں پناہ دے رکھی تھی اور یوں وہ اس قتل عام سے محفوظ رہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
شام: دہشت گردوں کے بیرونی حامیوں کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا
شام: عدرا کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی کاروائی جاری
شام: عدرا کی کہانی ایک شامی ڈاکٹر کے زبانی
شام: القلمون کے شہروں میں زندگی کی رونقیں لوٹ آئیں
تقصیلی خبروں کے لئے رجوع کریں:
دیر الزور میں فوجی کاروائی/ مغربی عرب اتحاد ختم ہورہا ہے/ عدرا میں کاروائی کی تفصیل